پروفیشنل بھیکاری



اگر آپ واقعی کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو خدارا مستحق بندے تک اپنی امداد پہنچائیں۔ آج ابھی سفر کے دوران ایک سولہ سے اٹھارہ سالہ لڑکی یہ صفحہ اٹھا کر آئی۔ ٹرین میں موجود تمام مسافروں کی جھولی میں وہ یہ کاغذ  پھینکتی ہوئی اگے بڑھتی گئی ٹرین میں موجود مسافروں  نے ایک دوسرے کو سمجھانے کی کوشش بھی کی آپ مستحق کی مدد کریں نہ کہ ایسے لوگوں کی جن کا پیشہ ہی مانگنا ہے۔ لیکن ہمارے مسلم بھائی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں چاہے جیسے بھی دیتے ہیں ان کا یہ جزبہ قابل تعریف صحیح لیکن میرا ان سے اختلاف ہے میری اختلاف رائے یہ ہے کہ پرچے پر دی گئی معلومات کے مطابق اس سولہ سالہ لڑکی کے دو بچے ہیں اور یہ دونوں ہولی فیملی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور یہ خاتون خود بھی کام کرنے سے عاری ہیں اور انکی عمر بھی بیالیس سال ہے۔ جب خاتون واپس پیسے لے کر آئیں تو تقریباً پانچ سو سے چھ سو روپے جمع کئے جا چکے تھے۔ خاتون کا میک اپ بلکل تازہ تھا  بیماری کا تو تصور کرنا بھی دور کی بات تھی اور عمر سولہ سے اٹھارہ سال سے زیادہ نہ تھی۔ خیر وہ بس سب سے پیسے بٹورتی اور چلتی بنی۔ میری تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ آپ اپنی امداد جو اللہ کی رضا کے لئے دیتے ہیں یا دے رہے ہیں اسکو مستحق لوگوں تک پہنچائیں اور ایک اچھا انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شہری ہونے کا بھی ثبوت دیں تا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے بھیکاری پیشہ کو روکا جا سکے۔ 

عمیر احمد خان

Comments

Popular posts from this blog

The Writer, Brain and Heart

Sehat Insaf Card, NADRA and Poor

ائیر یونیورسٹی - سیمینار برائے ہم آہنگی