امن مشاعرہ برائے رواداری
میں اپنے بھائی جناب فیصل دائیو اور جناب شاہ مراد بھائی کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے نا چیز کو اتنی عزت بخشی اور امن مشاعرہ برائے رواداری میں شرکت کے لئے مدعو کیا ۔ اس مشاعرہ میں بلائے گئے تمام مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حاضرین کو سوچنے کا اک نیا معیار اور طریقہ بتایا ۔
اس تقریب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
پہلا حصہ پالیسی ڈائیلاگ پر مشتمل تھا اور دوسرا امن مشاعرہ برائے رواداری۔ سامعین نے پہلے حصے میں میں مہمانوں سے سوالات کر کے اپنی موجودگی اور فراخ دلی کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ایسے ہی دوسرے حصے کے تمام مہمانوں کا بھی بھرپور استقبال کیا اور انکے کلام کی دل کھول کر داد دی۔ میں رواداری اور امن مشاعرہ کی پوری ٹیم کا بہت مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اتنی عزت بخشی۔ آخر میں میرے مشاعرہ میں پڑھے گئے کچھ اشعار ملاحظہ کیجئے:
کون روکے گا راستہ امن کا
ہر دم بڑھتا جائے گا سلسلہ محبت کا
سخت،تلخ الفاظ بھریں گے نفرت دلوں میں
پیار کی زبان سے ہی ہوگا رابطہ محبت کا
لوٹ آئی ہیں امن کی بہاریں آج
چل پڑا اب یہ سلسلہ محبت کا
نفرتوں کی آگ کو مل کر بجھائیں گے عمیر
آؤ کے جلائیں اک دیا امن کا، محبت کا۔
تحریر: عمیر احمد خان

Comments
Post a Comment