Posts

Showing posts from 2019

آپ کا دوغلا پن عیاں ہے

آپ کا دوغلا پن عیاں ہے وہ کہاں ٹھرے ہم تو یہاں ہیں دلِ امید سے کوئی حسرت نہ پوچھ وہ جو اک بار کہہ دے بس اُسی میں ہاں ہے۔ عمیر احمد خان

شکوہ فضول ہے

Image
موسم کی گرمی سے شکوہ فضول ہے ہوا کی نرمی سے شکوہ فضول ہے گر ساتھ چلے ہو تو   یوں بہکنا فضول ہے رات کے اس عالم میں   چاند کی اس چاندنی میں خاموشی مجھے ستاتی ہے تو آجا کے اب ضد فضول ہے اک بار تو آجا کے یہ شامیں   تجھ بن اداس ہیں   کوئی امید نہیں تجھ سے عمیر تجھ سنگ دل سے شکوہ فضول ہے عمیر احمد خان

پروفیشنل بھیکاری

Image
اگر آپ واقعی کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو خدارا مستحق بندے تک اپنی امداد پہنچائیں۔ آج ابھی سفر کے دوران ایک سولہ سے اٹھارہ سالہ لڑکی یہ صفحہ اٹھا کر آئی۔ ٹرین میں موجود تمام مسافروں کی جھولی میں وہ یہ کاغذ  پھینکتی ہوئی اگے بڑھتی گئی ٹرین میں موجود مسافروں  نے ایک دوسرے کو سمجھانے کی کوشش بھی کی آپ مستحق کی مدد کریں نہ کہ ایسے لوگوں کی جن کا پیشہ ہی مانگنا ہے۔ لیکن ہمارے مسلم بھائی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں چاہے جیسے بھی دیتے ہیں ان کا یہ جزبہ قابل تعریف صحیح لیکن میرا ان سے اختلاف ہے میری اختلاف رائے یہ ہے کہ پرچے پر دی گئی معلومات کے مطابق اس سولہ سالہ لڑکی کے دو بچے ہیں اور یہ دونوں ہولی فیملی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور یہ خاتون خود بھی کام کرنے سے عاری ہیں اور انکی عمر بھی بیالیس سال ہے۔ جب خاتون واپس پیسے لے کر آئیں تو تقریباً پانچ سو سے چھ سو روپے جمع کئے جا چکے تھے۔ خاتون کا میک اپ بلکل تازہ تھا  بیماری کا تو تصور کرنا بھی دور کی بات تھی اور عمر سولہ سے اٹھارہ سال سے زیادہ نہ تھی۔ خیر وہ بس سب سے پیسے بٹورتی اور چلتی بنی۔ میری...

ائیر یونیورسٹی - سیمینار برائے ہم آہنگی

Image
ہم اہنگی ائیر یونیورسٹی اسلام آباد فیکلٹی برائے سوشل  سائنسس کی جانب سے منعقد کردہ سیمینار برائے ہم آہنگی نے سیمینار میں موجود تمام طلباء و طالبات کو زندگی اور مذاہب کے طلاطم کو ایک الگ نکتہ سے سوچنے کا نادر موقع فراہم کیا۔ اس سیمینار کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اسلام آباد کے مشہور و معروف چرچ میں کروایا گیا جس میں تمام انگلش ورکس  ائیر یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی جناب پروفیسر رابن داؤد نے نہ صرف مسلم ، کرسچن کے سماجی و معاشی زندگی کے بارے میں بات کی بلکہ انہوں نے سب کمیونیٹیز کے باہمی اختلافات کو ختم کرنے اور ملک کی سالمتی اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا۔ اسکے ساتھ ہی انہوں نےاس نکتہ پر بھی بات کی  ہندو، مسلم، سکھ، اور کرسچن سب انسان ہیں اور  ان سب کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا حق ہے اور ہمیں ایک دوسرے پیار محبت سے رہنا چاہیے اور  ہم سب کو اپنی ایک پہچان پاکستان بنا کے رہنا چاہئے ۔ تقریب کے اختتام پر محترم جناب اختر عباس آف ائیر یونیورسٹی نے مہمان خصوصی جناب رابن داؤد کو اعزازی شیل...

شکوہ عشق

ہمیں تم سے کچھ گلہ ہے تمہارے گھر کے سامنے سے کچھ ملا ہے انکشاف ضروری تو نہیں جو ہوا وہ تیرے کئے کا صلہ ہے تحریر: عمیر احمد خان

اعتکاف

سنا ہے کل مسجد میں  کچھ لوگ  اعتکاف بیٹھے ہیں دو اِدھر ، چار  اُدھر بیٹھے ہیں سرِعام گھوم رہے تھے جو کبھی آج پردے لگا کے بیٹھے ہیں ناراضگیاں دکھا رہے تھے جو کل آج رابطے بڑھا کے بیٹھے ہیں۔ تحریر:  عمیر احمد خان

درد لکھا ہے محسوس کیجئے

Image
اب تو اپنے بھی ہوئے ہیں پرائے شکایاتیں تم سے تھیں  ہم کسی اور سے کر آئے سمجھنے سے بھی  تو قاصر ہوں غم عشق پہ ماتم کروں یا افسوس تم تو حالت ذار دیکھ کر بھی نہ آے۔ تحریر: عمیر احمد خان

امن مشاعرہ برائے رواداری

Image
میں اپنے بھائی جناب فیصل دائیو اور جناب  شاہ مراد بھائی کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے نا چیز کو اتنی عزت بخشی اور امن مشاعرہ برائے رواداری میں شرکت کے لئے مدعو کیا ۔ اس مشاعرہ میں بلائے گئے تمام مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حاضرین کو سوچنے کا اک نیا معیار اور  طریقہ بتایا ۔  اس تقریب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔  پہلا حصہ پالیسی ڈائیلاگ پر مشتمل تھا اور دوسرا امن مشاعرہ برائے رواداری۔  سامعین نے پہلے حصے میں میں مہمانوں سے سوالات کر کے اپنی موجودگی اور فراخ دلی کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ایسے ہی دوسرے حصے کے تمام مہمانوں کا بھی بھرپور استقبال کیا اور انکے کلام کی دل کھول کر داد دی۔ میں رواداری اور امن مشاعرہ کی پوری ٹیم کا بہت مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اتنی عزت بخشی۔ آخر میں میرے مشاعرہ میں پڑھے گئے  کچھ اشعار ملاحظہ کیجئے: کون روکے گا راستہ امن کا ہر دم بڑھتا جائے گا سلسلہ محبت کا سخت،تلخ الفاظ بھریں گے نفرت دلوں میں پیار کی زبان سے ہی ہوگا رابطہ محبت کا لوٹ آئی ہیں امن کی بہاریں آج  چل پڑا اب یہ سلسلہ محبت کا ...

Culnary Arts -English Assignment 1

Task 1: Open the link and listen 👂 to the video carefully. Task 2: What are seven deadly sins of communication? Task 3: What are the four points of effective communication? Task4: Write your answers after watching this video in comment box with your name. Deadline: 28 May, 2019 Time: 00:00 Am https://youtu.be/eIho2S0ZahI Regards Umair Ahmed Khan

Sadness

Image
In the ocean of sadness My heart is crouching, On the song of cries My heart is burning, In the kingdom of cruels I am caught in prison, On the call of your name my Lord My heart is enchanting —Umair Ahmed Khan

سوچ

اک سوچ کی ہیں اشکال کئ اک سوچ کے ہیں جوابات کئی سوچنا کونسا جرم ہے؟ پر روکتے ہیں احباب کئی۔ تحریر: عمیر احمد خان

پیغامِ امن

پیغامِ امن کون روکے گا راستہ امن کا ہر دم بڑھتا جائے گا یہ سلسلہ محبت کا سخت و تلخ الفاظ بھریں گے نفرت دلوں میں پیار کی زبان سے ہی ہوگا رابطہ محبت کا لوٹ آئیں ہیں امن کی بہاریں آج   چل پڑا اب یہ سلسلہ امن کا، محبت کا پیسہ، عزت،شہرت اور یہ اونچے مکان ڈھونڈ رہا ہے ہر انسان ہم نے جس کے لئے کھویا ہے اپنا کل نہیں لائے گا وہ امن کا پیغام لکھیں گے اور پھیلائیں گے پیار کے سندیسے یہی ہے وہ راستہ امن کا، محبت کا آج جو ہم نے مسکرا کر کچھ لمحے گزارے ہیں سو     ایسے بھی کچھ کر دیا ادا قرض محبت کا امن سے تم بھی جیو اور ہمیں بھی جینے دو فخر سے کرو بلند نام پاکستان کا نفرتوں کی آگ کو مل کر بجھائیں گے عمیر آؤ کہ اک دیا امن کا، محبت کا تحریر :  عمیر احمد خان

سرکاری افسر اور عام آدمی

Image
“سرکاری آفسر  اور عام آدمی” میرا ایک سبجیکٹ پروفیسر سعید شیخ کی ایک   چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے رہ گیا اور اس بات کا ان کو پورا پورا احساس بھی ہے۔ جب میں نے پروفیسر صاحب کو بتایا کے میں نے تمام کاسس اور     اسئنمانٹس     مقررہ وقت پر ہی جمع کروئیں ہیں تو پھر میرا یہ سبجیکٹ کیسے رہ سکتا ہے اور میرے امتحان میں بھی اسی     نمبر ہیں ۔ پروفیسر     صاحب کو کئی بار ٹیلی فون کرنے کے بعد     انہوں نے بتایا کے میں نے آپ کے پریشنٹیشن کے مارکس نہیں لگائے جو شائد کسی غلطی کی وجہ سے رہ گئے خیر میں آپکو مارکس لگا دوں گا۔ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے بالاک نمبر پچیس میں     پوسٹ گریجویشن سیکشن میں گیا     جہاں مجھے کچھ پیپر تھامائے گئے اور ان پہ میں پروفیسر صاحب سے نمبر لگوا کر ، حاضری کا ثبوت لے کر اور ان پیپرز پر پروفیسر صاحب کے ریمارکس لکھوا کر جب اوپن یونیورسٹی پہنچا تو پوسٹ گریجویشن سیکشن میں لے     گیا تو     پہلے تو حضرت نے ماننے سے انکار کیا     او رپھر میرے کئی بار اصرار ک...